Wednesday, 6 April 2011

اشتعال کا استعمال

0 تبصرہ جات



غصّہ سبھی کو آتا ہے مگر ہم لوگ اپنے غصّے کے اظہار میں کسی خاص لیاقت مندی سے کام نہیں لیتے۔ آپ کہیں گے غصے کی کیفیت میں لیاقت مندی کی بات کرنا کہاں کی لیاقت مندی ہے۔ لیکن ہم میں بہت سے لوگ غصّے کی کیفیت میں بھی عقل کا دامن نہیں چھوڑتے یہی لیاقت مندی کی دلیل ہے۔ پھر بھی غصّے میں ہمارا بہترین ردِ عمل یہ ہوتا ہے کہ غصے کو بڑی ہی خوبصورتی سے دبا دیتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات مشتعل ہونا اور اپنے غصّے کا اظہار کرنا بھی مفید ہوتا ہے۔ غصّے کی کیفیت میں لوگ اکثر بہت اچھے کام بھی کر گزرتے ہیں۔ اگر آپ کبھی غصّہ میں آئیں تو فوراً اپنے کسی پسندیدہ کام میں جُت جائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ کام حیرت انگیز طور پر نہایت تیزی سے اور عمدگی سے نمٹ جائے گا۔







Sunday, 27 March 2011

پہچان

0 تبصرہ جات

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔

معزز ترین آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے دل میں ہر ایک کے لئے محبت ہوتی ہے اور وہ آسانی سے کسی دوسرے کے ساتھ دشمنی پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ چاندی کی پیالی کی طرح ہوتا ہے ۔ اگر اُسے موڑنا چاہیں تو آسانی سے مڑ جائے گا۔ اور اگر آپ اسے توڑنا چاہیں تو وہ آسانی سے نہیں ٹوٹے گا۔ اور نیچ آدمی کی پہچان یہ ہے کہ وہ آسانی سے محبت پر آمادہ نہیں ہوتا۔ دُشمنی کے لئے اُدھار کھائے بیٹھا رہتا ہے۔ مٹی کے پیالے کی طرح ہوتا ہے کہ آپ اُسے موڑنا چاہیں تو ہرگز نہیں مڑے گا۔ اور اگر توڑیں تو فوراً ٹوٹ جائے گا۔





Friday, 18 March 2011

ابتدا

0 تبصرہ جات


میری انتہائے نگارش یہی ہے
ترے نام سے ابتدا کر رہا ہوں

اس بلاگ میں کیا پیش کیا جائے گا؟   یہ بات جاننے کے لئے کبھی کبھی یہاں آنا پڑے گا ۔  اصل غایت وہی ہے جو ہر بلاگ کی ہوتی ہے  یعنی  اظہارِ خیال اور ساتھ ساتھ گفتگو بشمول شئرنگ۔  موضوعات ہلکے پھلکے لیکن کبھی کبھی۔۔۔۔

کچھ عنوان کے بارے میں ۔ جو  لوگ عہدِ طفلی میں ہمدرد نونہال پڑھتے رہے ہیں اُن کے لئے یہ عنوان یقیناً  نیا نہیں ہے۔ جو اس  سےآگاہ نہیں ہیں اُن کے لئے عرض ہے کہ  ہمدرد نونہال میں اس عنوان سے ایک مستقل سلسلہ شائع ہوا کرتا تھا (اب کا پتہ نہیں ) جس میں کچھ اچھی باتیں اور اقوالِ زریں   ہوتے تھے۔ یہ عنوان وہیں سے مستعار لیا گیا ہے۔

فی الحال اتنا ہی  کافی ہے۔۔۔۔

آتے رہیے  کہ "یار زندہ صحبت باقی"۔